Posts

Showing posts from August, 2017

پاکستان کی 2017 مردم شماری

Image
اسلام آباد: ادارہ شماریات نے نئی مردم شماری017 ک ی رپورٹ شائع کردی، نئی مردم شماری کے تحت پاکستان کی کل آبادی بیس کروڑ ستتر لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے، ملکی آبادی دو اعشاریہ چار فیصد کے حساب سے بڑھ رہی ہے، مردوں کی تعداد خواتین سے زیادہ ہوگئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق مردم شماری 2017ءکے ابتدائی نتائج جاری کردیئے گئے ہیں، 1998 کے مقابلے میں ملکی آبادی میں 57 فیصد اضافہ ہوگیا، پاکستان کی مجموعی آبادی 20 کروڑ 77 لاکھ 74 ہزار سے زیادہ ہے۔ گزشتہ 19 سال میں پاکستان کی آبادی میں 7 کروڑ 54 لاکھ 22 ہزار 241 افراد کا اضافہ ہوا، سالانہ بنیاد پر ملکی آبادی 2.40 فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہے۔ پاکستان کی شہری آبادی کی تعداد 7 کروڑ 55 لاکھ 84 ہزار 989 اور دیہی آبادی کی تعداد 13 کروڑ 21 لاکھ 89 ہزار 531 ہے، شہری آبادی میں 36.38 فیصد اضافہ ہوا۔ ادارہ شماریات کے مطابق پاکستان میں مردوں کی آبادی 10 کروڑ 64 لاکھ 49 ہزار 322 ہے ، خواتین کی آبادی 10 کروڑ 13 لاکھ 14 ہزار 780 ہے جبکہ پاکستان میں خواجہ سراؤں کی تعداد 10 ہزار 418 ہے۔ پاکستان میں ہر 100 خواتین کے مقابلے میں مردوں کی تعداد 105 ہے۔ پنجا...

رستم ہند

Image
رستمِ ہند، رستمِ زماں: گاما پہلوان          رستمِ زماں گاما پہلوان جنہیں اپنے پہلوانی کے پچاس سالہ دور میں ناقالِ شکست رہنے کا اعزاز حاصل ہے 22 مئی 1878کوامرتسر میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد عزیز بخش پہلوان ریاست کے درباری پہلوان تھے۔ ان کی وفات کے بعد غلام محمد عرف گاما اپنے ماموں عیدا پہلوان نے ان کی نگرانی میں پرورش پانے لگے۔          نو سال کی عمر سے انہوں نے پہلوانی شروع کی۔ان کے ذوق و شوق کو دیکھتے ہوئے ریاست دتیا کے حکمران مہاراجہ بھوانی سنگھ بہادر نے ان کی سرپرستی شروع کی۔کم عمری میں ہی گاما پہلوانوں نے اپنے وقت کے کئی معروف پہلوانوں کو زیر کرلیا ۔          19سالہ عمر میں گاما نے اس وقت کے رستمِ ہند ر حیم بخش عرف رحیم سلطانی والا کو دعوتِ مبارزت دے ڈالی۔ گاما پہلوان کا قد 5 فٹ 7 انچ تھا جب کہ رحم بخش پہلوان کا قد 6 فٹ 11انچ تھا۔ رحیم سلطانی والا نے گاما کی دعوتِ مبارزت قبول کرلی۔ گاما اور رحیم سلطانی والا کا یہ دلچسپ مقابلہ برابر رہا ۔         گاما پہلوان اور رحیم سلطانی والا کا اس ک...

سوال ہے زندگـی کـا؟

Image
سـوال ہے زندگـی کـا؟ 1. کیا کبھی کسی میڈیا نے یہ بتایا کہ نیسٹلے﴿Nestle﴾ کمپنی خود مانتی ہے کہ .  و اپنی چاکلیٹ کٹ کیٹ ﴿Kit Kat﴾ میں گاےٴ کے گوشت کا رس ملاتی ہے. 2. کیا میڈیا نے کبھی بتلایا کہ مدراس ہائی کورٹ میں فیر اینڈ لولی Fair&Lovelyکمپنی پر جب مقدمہ کیا گیا تھا تب کمپنی نے خود مانا تھا کہ ہم کریم میں سور کی چربی کا تیل ملاتے ہیں. 3. میڈیا نے کبھی یہ بتلایا کہ کولگیٹ ﴿Colgate﴾ کمپنی جب اپنے ملک امریکہ یا یورپ میں Colgate بیچتی ہے تو اس پر وارننگ لکھی ہوتی ہے پہلی تنبیہ Please keep out this Colgate from the reach of the children below 6 years یعنی چھ سال سے کم بچوں کی پہونچ سے اس کولگیٹ کو دور رکھیں/بچوں کو نہ دیجیے۔ کیوں ؟؟؟ کیوں کہ بچے اس کو چاٹ لیتے ہیں اور اس میں کینسر پیدا کرنے والا کیمیکل ہے اس لیے وہ کہتے ہیں کہ اسے بچوں کو نہ دیا جاےٴ۔ دوسری تنبیہIn case of accidental ingestion, please contact nearest poison control center immediately مطلب اگر بچے نے غلطی سے چاٹ لیا تو جلدی سے ڈاکٹر کے پاس لے جائیے کیوں کہ یہ بہت خطرناک زہر ہے تیسری بات اس میںب لکھی ہوتی ہے...

سانپ کے بارے میں

Image
http://gestyy.com/w0Oq6W سانپ کے بارے میں معلومات  1 سانپ کی کھال کو جلا کر زیتون کے تیل میں ملا کر درد والے دانت یا ڈارھ میں لگایا جائے تو فوراً آرام آجاتا ہے 2 ۔۔۔اسی طرح اس کی کھال سر کے ساتھ پیس کر پیسٹ بنا لی جائے اور گنجے کے سر پر لیپ کر دیا جائے تو نئے اور صحت مند بال اُگ آتے ہیں ۔3۔سانپ کی کھال کی دھونی بواسیر کے لیے مفید ہے 4۔۔۔سانپ عموماً ایک ہزار سال تک زندہ رہتا ہے ۔ اور ہر سال یہ اپنی جلد (کینچلی) اتار ڈالتا ہے 5۔۔۔۔مادہ سانپ ایک سال میں ایک مرتبہ انڈے دیتی ہے 6 ۔۔۔انڈوں کی تعداد اس کے بدن کی ہڈیوں کے برابر ہوتی ہے ۔۔۔اکثر انڈوں کو تو چیونٹیاں ہی خراب کر دیتی ہیں ۔۔۔صرف چند انڈوں سے بچے نکلتے ہیں ۔۔۔7سانپ کو اگر بچھو ڈنک مارے تو وہ فوراً مر جاتا ہے 8 ۔۔۔سانپ کی دو زبانیں ہوتی ہیں ۔9۔۔سانپ کو اگر کھانے کو کچھ نہ ملے تو وہ ہوا پر گزارہ کر لیتا ہے یعنی ہوا کھا لیتا ہے۔۔ ہوا میں مختلف زہریلی گیسیں بھی ہوتی ہیں جنہیں یہ زہریلے جانور اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں ،ورنہ یہ اتنی بڑھ جائیں کہ انسان کا زندہ رہنا محال ہو جائے ۔ 10 سانپ کو پانی کی طلب نہیں ہوتی البتہ اگر کبھ...

ساغر کی حیات پر روشنی کی ایک کرن

Image
جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی وہ1928ء انبالہ بھارت میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے اپنا بچپن سہارنپور اور انبالہ میں گزرا ۔ساغر اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھے انہیں اپنے اکلوتے ہونے کا بھی بہت رنج تھا۔اس پر وہ اللہ سے بھی شاکی رہے ۔ساغر کا بچپن انتہائی نا مساعد حالات میں گزرا۔اسی طرح ان کی زندگی کا اختتام بھی نامساعد حالات میں ہوا ۔جوانی میں چار دن سکھ کے دیکھنے نصیب ہوئے ان کو ۔ان کے گھر میں افلاس نے ڈیرے ڈالے ہوئے تھے ۔کیسی تعلیم کہاں کی تعلیم ۔ان کے محلے میں ایک استاد حبیب حسن رہتے تھے ۔ساغر کو انہی نے حروف سے آشنا کروایا ۔ اسی دور میں ساغر میں شاعری کا جذبہ پروان چڑھا ۔ساغر 14سال کی عمر میں شعر کہنے لگے تھے اپنے دوستوں کو شعر سنایا کرتے ۔ شروع میں تخلص ناصر مجازی تھا لیکن جلد ہی اسے چھوڑ کر ساغر صدیقی کر لیا۔ لاابالی طبیعت کے مالک تھے ۔ہر وقت بے چین رہتے ۔جیسے کچھ کھو گیا ہو ۔ایک دن ایک جیسے صبح شام سے تنگ آگئے ۔امرتسر کا نام بچپن سے سنتے آئے تھے ۔گھر سے فرار ہو کر امرتسر جا پہنچے ۔وہاں ایک دکاندار کے پاس نوکری کر لی ۔جو لکڑی کی کنگھیاں بنا کر فروخت کرتا تھا ۔ انہوں نے بھی یہ کام...