Posts

Showing posts from October, 2017

Mujra girl

Image
This Story just shook up the world.. اس کو پیسوں کی ضرورت تھی اور مجھے اس کے جسم کی ، میرے اندر کا شیطان پوری طرح جاگ چکا تھا جب میں کمرے میں اس کے پیچھے داخل ہوا وہ برقعہ پہن رہی تھی مجھے اس کا مجرا دیکھتے ہوئے مسلسل دسواں دن تھا۔ کیا غضب کی نئی چیز ہیرا منڈی میں آئی تھی۔ اس کا نام بلبل تھا۔ جب وہ ناچتی اور تھرکتی تھی تو جیسے سب تماش بین محو ہو جاتے۔ روزانہ اس کو ناچتا دیکھ کے میری شیطانی ہوس مزید پیاسی ہوتی جاتی اور میں نے فیصلہ کر لیا کہ اس سے ضرور ملوں گا۔ میں ہر قیمت پر اسے حاصل کرنا چاہتا تھا۔اس دن مجرا کے دوران وہ بجھی بجھی سی دکھائی دے رہی تھی ۔ اس کے ناچ میں وہ روانی بھی نہیں تھی لیکن مجھے اس سے ملنا تھا، بات کرنی تھی اور معاملات طے کرنے تھے۔ مجرے کے اختتام پہ جب سب تماش بین چلے گئے تو میں بھی اٹھا۔ وہ کوٹھے کی بالکنی میں اپنی نائیکہ کے ساتھ کسی بات پر الجھ رہی تھی۔ دروازہ کے تھوڑا سا قریب ہوا تو میں نے سنا کہ وہ اس سے رو رو کر کچھ مزید رقم کا مطالبہ کر رہی تھی۔ مگر نائیکہ اسکو دھتکار رہی تھی اور آخر میں غصے میں وہ بلبل کو اگلے دن وقت پہ آنے کا کہ کر وہاں سے بڑبڑاتی ہوئی نکل...

: نابالغ اور کچے ذہن ہرگز نہ پڑھیں۔۔!!

Image
جب لیٹرین نہیں ہوتی تھی ۔۔؟؟ نوٹ : نابالغ اور کچے ذہن ہرگز نہ پڑھیں۔۔!! جب دیہات میں لیٹرین کا رواج نہیں تھا رفع حاجت کے لیے کھیتوں کا رخ کرنا پڑتا تھا ۔عورتیں رات کو یا صبح منہ اندھیرے یہ کام کرتیں۔ مرد و خواتین کے علاقے بھی مخصوص تھے۔ ہمیں یعنی بچوں کو بھی باہر جانا پڑھتا تھا۔ ان دنوں بھوت پریت اور بردہ فروشی 'عام' تھی اسلئے ہمیں دن دہاڑے اور ٹیم کی شکل میں یہ فرض سرانجام دینا پڑتا۔۔ فراغت کے بعد "گھسیٹی" ماری جاتی تھی۔ اس عمل کے دوران کانٹا کنکر چبھ جانا عام بات تھی۔ بارش میں بھی بھیگتے، کانپتے، کیچڑ میں لتھڑے وہیں جانا پڑتا اور کپڑے کی ٹاکیاں بطور ٹشو پیپر استعمال ہوتیں۔ رات کو ایمرجنسی پڑ جاتی تو اکیلے ہی ڈرتے ڈرتے کھیت کو دوڑ لگ جاتی۔ جاتے ہوئے دعا مانگی جاتی کہ "یا اللہ تو ہی ہے جو خیریت(شلوار کی) سے پہنچا سکتا ہے" واپسی پر بھی یہی دعا مانگی جاتی "یا اللہ تو ہی ہے جو خیریت(جنات سے) سے پہنچا سکتا ہے" ایک لڑکا اس حالت میں پکڑا گیا کہ کھیت میں بیٹھا ' کام' بھی کرتا جا رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ بڑا سا تربوز بھی کھا رہا ہے۔۔ گا...

جلاد پاکستانی

Image
جلاد لال مسیح ایک’’ ریٹائرڈ جلاد‘‘ ہے اس نے اپنی 27 سالہ پولیس کی نوکری میں 750 لوگوں کو پھانسیاں دیں، یکی گیٹ لاہور میں 1955ء کو پیدا ہونے والا لال مسیح معروف جلاد تارا مسیح کا سالا ہے اور اپنے خاندانی جلاد ہونے پر آج بھی فخر کرتاہے۔تارا مسیح وہ جلاد ہے جس کے والد نے معروف حریت پسند باغی بھگت سنگھ کو پھانسی دی تھی اور خود تارا مسیح نے پاکستان کے مقبول ترین وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر لٹکایا جس کا معاوضہ اُس دور کی حکومت وقت نے مبلغ25 روپے ادا کیا۔اپنے بہنوئی تارا مسیح کی وفات کے بعد لال مسیح 1984ء میں بطور جلاد پولیس میں بھرتی ہوا۔ جلاد کا نام سنتے ہی ذہن میں ایک سفاک شخصیت کا تصور ابھرتاہے، لیکن سچ تو یہ ہے کہ یہ لوگ صرف سرکاری احکامات کی پابندی کرتے ہیں، انہیں نہیں پتا ہوتا کہ جس کی زندگی کا یہ خاتمہ کرنے جارہے ہیں وہ سزا کا حق دار تھا یا نہیں۔انہیں صرف اپنی ڈیوٹی اد ا کرناہوتی ہے۔لال مسیح کے مطابق پاکستان میں پھانسی کے وقت چار لوگ مجرم کے پاس موجود ہوتے ہیں جس میں کیس کا جج، ایس پی اور کچھ پولیس کے آدمیوں کے ساتھ ایک ڈاکٹر بھی شامل ہوتا ہے۔ عموماً ایس پی، پھانسی...

Online earning website

Image
http://join-shortest.com/ref/2c675fc11e http://join-shortest.com/ref/2c675fc11e http://join-shortest.com/ref/2c675fc11e Click and join for free Make account Then copy any website any YouTube video links in this website bar .then short the link and copy and then post or share in whatsapp group You earn mony at every click اس لنک پر کلک کر کے اپنے نام سے رجسٹرد ہو جاو اس کے بعد کسی بھی یو ٹیوب یا ویبسائٹ کا لنک کاپی کر کے اس ویبسائٹ پر اس کو پیسٹ کر دو اور پر شورٹ کر کے اد لنک http://join-shortest.com/ref/2c675fc11e کو شیر کعنا شروع کر دو جتنے کلک ہو گے اتنے ڈالر

ﻣﻮﻟﻮﯼ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ

Image
http://join-shortest.com/ref/2c675fc11e ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﻮ ﻣﺤﻠﮯ ﮐﮯ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﻮﮔﺌﯽ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﺳﺖ ﮐﻮ ﻣﻨﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﺠﮭﺎ ﮐﺮ ﺭﮐﮭﻮ ﺗﺎﮐﮧ۔۔۔ “ ﺍﻧﻮﮐﮭﯽ ﺗﺮﯾﻦ ﮐﺎ ﻭﮦ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﺼﻮﺭ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮐﺮﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﯾﮏ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺤﻠﮯ ﮐﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺳﮯ ﺑﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﻮﮔﺌﯽ، ﻟﮍﮐﮯ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﺱ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﮩﺖ ﻗﺮﯾﺒﯽ ﯾﺎﺭ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﯾﺎﺭ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺳﮯ ﺑﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﺱ ﻣﻌﺎﻣﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﻭ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺖ ﻧﮯ ﺍﺳﺘﻔﺴﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻣﺪﺩ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﺮﺳﮑﺘﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﺍﺱ ﻟﮍﮐﮯ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺎﻡ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻣﺎﻡ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﺎ ﮐﺮ ﺟﻠﺪﯼ ﮔﮭﺮ ﺁﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﮐﺎ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺑﮭﯽ ﻭﻗﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ۔ ﺗﻢ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮﻭ ﮐﻞ ﺳﮯ ﻧﻤﺎﺯﯾﮟ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﻭ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺎﻡ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﺠﯿﺐ ﻋﺠﯿﺐ ﻣﺴﺌﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﺠﮭﺎ ﮐﺮ ﺭﮐﮭﻮ ﺗﺎﮐﮧ ﻭﮦ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻣﺴﺌﻠﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺘﮯ ﺩﯾﺘﮯ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﻟﯿﭧ ﮨﻮﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺳﮯ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺧﻮﺏ ﻭﻗﺖ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺖ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﯾﮧ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ، ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﻭﮦ ﻟﮍﮐﺎ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ...