problems
کنواروں کا اہم مسئلہ۔۔۔ اور اس کاحل
----------------------------------------------
❞ پہلےاپنے پیروں پرکھڑےہو جاؤ پھر شادی کی سوچنا ❝
=================================
💔 یہ ایک جملہ ہے جو ہمارےعہد کے بہت سارے کنواروں کے دل پر بجلی بن کر گرتا ہے اور ان کی سلگتی تمنّاؤں اور آرزوؤں کو خاکستر کر دیتاہے۔ ہمارے یہاں لڑکے کے لیے پیروں پر کھڑا ہونے کا معیار اتنی بلندی پر رکھا گیا ہے کہ وہاں تک پہنچتے پہنچتے لڑکے کی عمر اس مرحلہ میں پہنچ جاتی ہے جہاں گھٹنوں کا درد شروع ہو جاتا ہے۔ لیکن گھنٹے میں درد شروع ہو جانے کی اور بھی کئی ساری وجوہات ہوتی ہیں۔
💘 عجیب معاملہ یہ ہے کہ تیس سال سے پہلے تو یہ سمجھا ہی نہیں جاتا کہ بچّہ اب بچّہ نہیں رہا۔ جوان ہوچکا ہے۔ آرزوئیں اب اس کے دل میں بھی کچوکے لگاتی ہیں، خواب اب اس کی راتوں کو سونے نہیں دیتے۔ بے چارہ نوجوان شرم اور بے شرمی کے بیچ جھولتا رہتا ہے اس فکر میں کہ آخر بے شرمی کی کون سی حد تک جائے کہ گھر والے اس کا مسئلہ سمجھ پائیں۔ کبھی حیا اس کو ہاتھ پکڑ کر روک لیتی ہے تو کبھی کنوارگی کا درد اس کو مجبور کرتا ہے کہ” اتر جاؤ بے شرمی پر اور رکھ دو دل کا درد کھول کر سب کے سامنے۔ ”
💓 پھر جب عمر کی دہائی پر جب آ کر لگتا ہے تو گھر والوں کو لگتا ہے بچّہ اب شادی کے لائق ہو گیا۔ پھر رخ کیا جاتا ہے منڈی کی طرف۔ لڑکے پر حسب لیاقت و صلاحیت قیمت کے ٹیگ لگتے ہیں۔ خریدار کی تلاش ہوتی ہے۔ دلالوں سے کانٹیکٹ کیا جاتا ہے۔ بولیاں لگتی ہیں۔ مول بھائی ہوتا ہے۔ نیلامی ہوتی ہے۔ اور تلاش ہوتی ہے صحیح خریدار اور مناسب دام کی۔
🕶 مردوں کی منڈی میں ہر طرح دلہے بکنے کو دستیاب ہوتے ہیں۔ ہر قسم کے دلہے کی اپنی ولیو ہوتی ہے۔ ڈاکٹر اور انجینر اور باہر ملکوں میں مقیم سب سے اعلیٰ نسل کے دلہے سمجھے جاتے ہیں منڈی میں جہاں اس نسل کے دولہے بکتے ہیں وہاں کی انٹری فیس بھی بڑی ہوتی ہے۔ جو صرف انتہائی امیر گھرانے کے لڑکی والے ہی ادا کر پاتے ہیں۔
🎓 متوسظ قسم کے مالداروں اور خوشحال گھرانوں کا بھاؤ کافی عروج پر ہے آج کل۔ اور انگریجی پڑھائی پڑھنے والوں کی بھی کافی مانگ ہے۔
منڈی کے ایک کونے میں مولوی بھی بکتے ہیں۔ کیونکہ مولوی نسل کے دولہوں کے بارے میں خریداروں کی رائے یہ ہے کہ اس نسل کے دولہے کسی نا کسی طرح اپنے بال بچّوں کا پیٹ پال ہی لیتے ہیں، اس لیے مارکیٹ میں ان کا بھی ریٹ کافی اچھا ہو گیا ہے۔ بلکہ شاید یہی ایک مارکیٹ ہے جہاں ان کی ویلیو تھوڑی ٹھیک ٹھاک ہے۔
دو پہیہ سے کم اب کوئی مولوی فروخت نہیں ہوتا۔ الا من شاء ربک
👸🏻 لیکن مسئلہ صرف صحیح خریدار اور مناسب قیمت ملنے کا بھی نہیں ہے۔ یہ بازار ایسا ہے کہ بکنے والے کو خریدار بھی پسند آنا چاہے ورنہ ڈیل کینسل۔
👿 ذہنیت یہ بن گئی ہے کہ جب تک دس بیس گھرانے کی دعوتیں اڑا کر ان کی لڑکیاں ریجیکٹ نہ کر دی جائیں لڑکے کے گھر والوں کو تسکین نہیں ہوتی۔
👺 وہی ہوتا ہے کہ لڑکے کا تھوبڑا چاہے دیکھنے لائق نہ ہو۔ گھر والوں کی فکر لگی ہوتی ہے ۔ “وہ پری کہاں سے لاؤں، تیری دلہن کسے بناؤں” لڑکی چاہیے حور پری۔ لڑکے کو چاہے بات کرنے کی تمیزہی نہ ہو لڑکی چاہیے بے اے ایم اے۔
لڑکیوں کو ریجکٹ کرنے کے لیے ایسے ایسے کمنٹ سنے گئے ہیں :
“رنگ سانولا ہے۔ میرے بھائی کو گوری لڑکی چاہیے۔ ”
“بال دیکھے تھے اپّی کتنے چھوٹے تھے اس کے۔ ”
“اس کی ایڑیاں پھٹی ہوئی ہیں میں نے چپکے سے موزہ اتروا کے دیکھ لی تھی”
“قد چھوٹا ہے نہیں جمے گی بھائی کو ”
” ماسٹر ہی تو ہے ابّا لڑکی کے۔ کچھ بھی دے لیں تو کتنا دیں لیں گے آخر”
یہ صورتِ حال اکثر جگہوں پر دیکھی گئی ہے اور انتہائی شرم کا مقام ہے۔ اِن میں بلا مبالغہ صرف عورتیں ہی پیش پیش رہتی ہیں۔ کاش کہ “مرد” حضرات اپنی “مردانگی” کا پاس کر لیں اور نبی اکرمﷺ کے فرمانِ عالیشان فلیغیرہ بیدہ کا خیال کر لیں۔ (محرر)
” چودھری تو ہیں وہ لوگ لیکن چھوٹے چودھری ہیں۔ ہم بڑے چودھری کے گھر کی لڑکی لائیں گے”
“ہم انصاری لوگ شیخوں کے یہاں شادی نہیں کرتے”
اور بعض مرتبہ بہانہ ہوتا ہے۔
“لڑکی سمجھ نہیں آ رہی ہے ”
الغرض اس طرح پسندیدہ خریدار اور مناسب دام ملتے ملتے لڑکا 35 / 40 کراس کر چکا ہوتا ہے۔
اب بھلا بتائیے کہ کہ ایک ایسے زمانہ میں جب تقویٰ مسجد کی صفوں میں بھی دکھائی نہیں دیتا، ایک لڑکے سے جس کی ضرورت 15 /16 سال سے ہی شروع ہو گئی تھی آپ بیس سال تک روزے پر کیسے گذارا کرا سکتے ہیں۔ پھر آپ کہتے ہیں کہ معاشرہ میں فحاشی بڑھ گئی ہے۔ تو بھائی جہاں نکاح مشکل ہو گا وہاں زنا اپنے لیے راستے آسان کر ہی لے گا۔
بہت سارے معاملات میں نے دیکھے ہیں کہ لڑکے جہیز کی لالچ نہیں رکھتے لیکن ان کی جوانی گھر والوں کی لالچ کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے
🔴 میرے پیارے قارئین وقاریات۔۔۔!
ہم اپنے عہد کے کنواروں کو آج بغاوت پر ابھارتے ہیں۔۔۔
💐 دوستو۔۔۔!
👌 اصل کھیلنے کے دن تو یہ بیس کی دہائی کے ہی ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایک دن بڑے قیمتی ہیں۔ ان کو اپنی کنوارگی میں ضائع مت کرو، ناہی جوانی کی اس پاک دامنی پر بد کرداری کا داغ لگنے دو۔ تمہارے نبی کی تعلیم ہے کہ اگر بیوی کا نان نفقہ برداشت کرسکتے ہو تو شادی کر لو۔ اس سے نگاہیں جھک جاتی ہیں اور شرمگاہیں محفوظ ہو جاتی ہے۔
💰 یہ خوبصورت لمحے لالچی گھر والوں کی بھینٹ مت چڑھاؤ۔ یہ لالچی لوگ تمہاری جوانی واپس نہیں لا کر دینے والے۔ لڑکے کو شادی کے لیے ولی کی ضرورت نہیں۔ قدم آگے بڑھاؤ اور گھر دلہن لے آؤ۔ ورنہ تیس کے بعد حور پری بھی مل جائے تو نوجوانی کا یہ لطف نہیں ملنے والا۔
دیکھو۔۔۔!
تمھارے لیے بھی آسمان سے اتر کر حوریں نہیں آنے والیں۔۔۔ دنیا ہی کی کسی لڑکی سے کام چلانا پڑے گا۔ بقیہ خواہشیں پوری کرنے کے لیے دینداری اختیار کرو اور جنّت کا انتظار۔ دنیا کے لیے تو رسولﷺ کی یہی ہدایت ہے کہ :
❤️ عورت سےنکاح ❹ چیزوں کی بنیاد پر کیاجاتاہے
-------------------------------------------
❶-◄ اس کے مال کی وجہ سے اور
❷-◄ اس کے خاندانی شرف کی وجہ سے اور
❸-◄ اس کی خوبصورتی کی وجہ سے اور
❹-◄ اس کے دین کی وجہ سے
اور تو -◄◄ دیندار عورت سے نکاح کر کے ( کامیابی ) حاصل کر ، اگر ایسا نہ کرے تو تیرے ہاتھوں کو مٹی لگے گی ( یعنی اخیر میں تجھ کو ندامت ہو گی ) ۔
📚 صحیح البخاری (5090)
----------------------------------------------
❞ پہلےاپنے پیروں پرکھڑےہو جاؤ پھر شادی کی سوچنا ❝
=================================
💔 یہ ایک جملہ ہے جو ہمارےعہد کے بہت سارے کنواروں کے دل پر بجلی بن کر گرتا ہے اور ان کی سلگتی تمنّاؤں اور آرزوؤں کو خاکستر کر دیتاہے۔ ہمارے یہاں لڑکے کے لیے پیروں پر کھڑا ہونے کا معیار اتنی بلندی پر رکھا گیا ہے کہ وہاں تک پہنچتے پہنچتے لڑکے کی عمر اس مرحلہ میں پہنچ جاتی ہے جہاں گھٹنوں کا درد شروع ہو جاتا ہے۔ لیکن گھنٹے میں درد شروع ہو جانے کی اور بھی کئی ساری وجوہات ہوتی ہیں۔
💘 عجیب معاملہ یہ ہے کہ تیس سال سے پہلے تو یہ سمجھا ہی نہیں جاتا کہ بچّہ اب بچّہ نہیں رہا۔ جوان ہوچکا ہے۔ آرزوئیں اب اس کے دل میں بھی کچوکے لگاتی ہیں، خواب اب اس کی راتوں کو سونے نہیں دیتے۔ بے چارہ نوجوان شرم اور بے شرمی کے بیچ جھولتا رہتا ہے اس فکر میں کہ آخر بے شرمی کی کون سی حد تک جائے کہ گھر والے اس کا مسئلہ سمجھ پائیں۔ کبھی حیا اس کو ہاتھ پکڑ کر روک لیتی ہے تو کبھی کنوارگی کا درد اس کو مجبور کرتا ہے کہ” اتر جاؤ بے شرمی پر اور رکھ دو دل کا درد کھول کر سب کے سامنے۔ ”
💓 پھر جب عمر کی دہائی پر جب آ کر لگتا ہے تو گھر والوں کو لگتا ہے بچّہ اب شادی کے لائق ہو گیا۔ پھر رخ کیا جاتا ہے منڈی کی طرف۔ لڑکے پر حسب لیاقت و صلاحیت قیمت کے ٹیگ لگتے ہیں۔ خریدار کی تلاش ہوتی ہے۔ دلالوں سے کانٹیکٹ کیا جاتا ہے۔ بولیاں لگتی ہیں۔ مول بھائی ہوتا ہے۔ نیلامی ہوتی ہے۔ اور تلاش ہوتی ہے صحیح خریدار اور مناسب دام کی۔
🕶 مردوں کی منڈی میں ہر طرح دلہے بکنے کو دستیاب ہوتے ہیں۔ ہر قسم کے دلہے کی اپنی ولیو ہوتی ہے۔ ڈاکٹر اور انجینر اور باہر ملکوں میں مقیم سب سے اعلیٰ نسل کے دلہے سمجھے جاتے ہیں منڈی میں جہاں اس نسل کے دولہے بکتے ہیں وہاں کی انٹری فیس بھی بڑی ہوتی ہے۔ جو صرف انتہائی امیر گھرانے کے لڑکی والے ہی ادا کر پاتے ہیں۔
🎓 متوسظ قسم کے مالداروں اور خوشحال گھرانوں کا بھاؤ کافی عروج پر ہے آج کل۔ اور انگریجی پڑھائی پڑھنے والوں کی بھی کافی مانگ ہے۔
منڈی کے ایک کونے میں مولوی بھی بکتے ہیں۔ کیونکہ مولوی نسل کے دولہوں کے بارے میں خریداروں کی رائے یہ ہے کہ اس نسل کے دولہے کسی نا کسی طرح اپنے بال بچّوں کا پیٹ پال ہی لیتے ہیں، اس لیے مارکیٹ میں ان کا بھی ریٹ کافی اچھا ہو گیا ہے۔ بلکہ شاید یہی ایک مارکیٹ ہے جہاں ان کی ویلیو تھوڑی ٹھیک ٹھاک ہے۔
دو پہیہ سے کم اب کوئی مولوی فروخت نہیں ہوتا۔ الا من شاء ربک
👸🏻 لیکن مسئلہ صرف صحیح خریدار اور مناسب قیمت ملنے کا بھی نہیں ہے۔ یہ بازار ایسا ہے کہ بکنے والے کو خریدار بھی پسند آنا چاہے ورنہ ڈیل کینسل۔
👿 ذہنیت یہ بن گئی ہے کہ جب تک دس بیس گھرانے کی دعوتیں اڑا کر ان کی لڑکیاں ریجیکٹ نہ کر دی جائیں لڑکے کے گھر والوں کو تسکین نہیں ہوتی۔
👺 وہی ہوتا ہے کہ لڑکے کا تھوبڑا چاہے دیکھنے لائق نہ ہو۔ گھر والوں کی فکر لگی ہوتی ہے ۔ “وہ پری کہاں سے لاؤں، تیری دلہن کسے بناؤں” لڑکی چاہیے حور پری۔ لڑکے کو چاہے بات کرنے کی تمیزہی نہ ہو لڑکی چاہیے بے اے ایم اے۔
لڑکیوں کو ریجکٹ کرنے کے لیے ایسے ایسے کمنٹ سنے گئے ہیں :
“رنگ سانولا ہے۔ میرے بھائی کو گوری لڑکی چاہیے۔ ”
“بال دیکھے تھے اپّی کتنے چھوٹے تھے اس کے۔ ”
“اس کی ایڑیاں پھٹی ہوئی ہیں میں نے چپکے سے موزہ اتروا کے دیکھ لی تھی”
“قد چھوٹا ہے نہیں جمے گی بھائی کو ”
” ماسٹر ہی تو ہے ابّا لڑکی کے۔ کچھ بھی دے لیں تو کتنا دیں لیں گے آخر”
یہ صورتِ حال اکثر جگہوں پر دیکھی گئی ہے اور انتہائی شرم کا مقام ہے۔ اِن میں بلا مبالغہ صرف عورتیں ہی پیش پیش رہتی ہیں۔ کاش کہ “مرد” حضرات اپنی “مردانگی” کا پاس کر لیں اور نبی اکرمﷺ کے فرمانِ عالیشان فلیغیرہ بیدہ کا خیال کر لیں۔ (محرر)
” چودھری تو ہیں وہ لوگ لیکن چھوٹے چودھری ہیں۔ ہم بڑے چودھری کے گھر کی لڑکی لائیں گے”
“ہم انصاری لوگ شیخوں کے یہاں شادی نہیں کرتے”
اور بعض مرتبہ بہانہ ہوتا ہے۔
“لڑکی سمجھ نہیں آ رہی ہے ”
الغرض اس طرح پسندیدہ خریدار اور مناسب دام ملتے ملتے لڑکا 35 / 40 کراس کر چکا ہوتا ہے۔
اب بھلا بتائیے کہ کہ ایک ایسے زمانہ میں جب تقویٰ مسجد کی صفوں میں بھی دکھائی نہیں دیتا، ایک لڑکے سے جس کی ضرورت 15 /16 سال سے ہی شروع ہو گئی تھی آپ بیس سال تک روزے پر کیسے گذارا کرا سکتے ہیں۔ پھر آپ کہتے ہیں کہ معاشرہ میں فحاشی بڑھ گئی ہے۔ تو بھائی جہاں نکاح مشکل ہو گا وہاں زنا اپنے لیے راستے آسان کر ہی لے گا۔
بہت سارے معاملات میں نے دیکھے ہیں کہ لڑکے جہیز کی لالچ نہیں رکھتے لیکن ان کی جوانی گھر والوں کی لالچ کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے
🔴 میرے پیارے قارئین وقاریات۔۔۔!
ہم اپنے عہد کے کنواروں کو آج بغاوت پر ابھارتے ہیں۔۔۔
💐 دوستو۔۔۔!
👌 اصل کھیلنے کے دن تو یہ بیس کی دہائی کے ہی ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایک دن بڑے قیمتی ہیں۔ ان کو اپنی کنوارگی میں ضائع مت کرو، ناہی جوانی کی اس پاک دامنی پر بد کرداری کا داغ لگنے دو۔ تمہارے نبی کی تعلیم ہے کہ اگر بیوی کا نان نفقہ برداشت کرسکتے ہو تو شادی کر لو۔ اس سے نگاہیں جھک جاتی ہیں اور شرمگاہیں محفوظ ہو جاتی ہے۔
💰 یہ خوبصورت لمحے لالچی گھر والوں کی بھینٹ مت چڑھاؤ۔ یہ لالچی لوگ تمہاری جوانی واپس نہیں لا کر دینے والے۔ لڑکے کو شادی کے لیے ولی کی ضرورت نہیں۔ قدم آگے بڑھاؤ اور گھر دلہن لے آؤ۔ ورنہ تیس کے بعد حور پری بھی مل جائے تو نوجوانی کا یہ لطف نہیں ملنے والا۔
دیکھو۔۔۔!
تمھارے لیے بھی آسمان سے اتر کر حوریں نہیں آنے والیں۔۔۔ دنیا ہی کی کسی لڑکی سے کام چلانا پڑے گا۔ بقیہ خواہشیں پوری کرنے کے لیے دینداری اختیار کرو اور جنّت کا انتظار۔ دنیا کے لیے تو رسولﷺ کی یہی ہدایت ہے کہ :
❤️ عورت سےنکاح ❹ چیزوں کی بنیاد پر کیاجاتاہے
-------------------------------------------
❶-◄ اس کے مال کی وجہ سے اور
❷-◄ اس کے خاندانی شرف کی وجہ سے اور
❸-◄ اس کی خوبصورتی کی وجہ سے اور
❹-◄ اس کے دین کی وجہ سے
اور تو -◄◄ دیندار عورت سے نکاح کر کے ( کامیابی ) حاصل کر ، اگر ایسا نہ کرے تو تیرے ہاتھوں کو مٹی لگے گی ( یعنی اخیر میں تجھ کو ندامت ہو گی ) ۔
📚 صحیح البخاری (5090)
Comments