Aik anghoti ki story
http://gestyy.com/w0Oq6W
وہ اپنی گرل فرینڈ کو ہوٹل کے دوسری منزل پر روم نمبر 13 میں لے گیا اور اسے آنکھیں بند کرنے کا کہا کیونکہ وہ اسے سرپرائز دینا چاہتا تھا۔ سو اس نے گرل فرینڈ کو سونے کی انگوٹھی پہنائی اور بولا کہ اب آنکھیں کھول کر دیکھو کیسا ہے سرپرائز؟ اس نے جونہی اپنی آنکھیں کھولیں تو زور سے چیخ کر بولی کہ یہ انگوٹھی تو میری ہی ہے اور دو دن پہلے میں نے الماری میں رکھی تو وہاں سے چوری ہو گئی تھی ۔ ممّی نے نوکرانی کو مار مار کر ملازمت سے ہی نکال دیا ۔ سچ سچ بتاؤ کہ یہ انگوٹھی تم نے کیسے چرائی اور وہی انگوٹھی مجھے سرپرائز دینے کی مذموم ہمت کیسے کرلی۔ تم مجھے سمجھتے کیا ہو۔ جلدی بتاؤ ورنہ میں روم سروس کال کرکے ابھی تمہیں گرفتار کروا دوں گی۔
بیچارے ڈیٹ پر آئے ہوئے اس نوجوان کے تمام ارمان اس کے پسینے کے ساتھ بہہ رہے تھے لیکن پھر بھی اس نے ہمت کی اور کہنے لگا چھوڑو نا جانِ من تمہاری انگوٹھی سے ملتی جلتی کیا دوسری انگوٹھی مارکیٹ میں نہیں مل سکتی اور گرل فرینڈ کے ہاتھ کو تھامنے کی کوشش کی لیکن اس نے یک لخت اس ہاتھ چھڑایا اور روم کا دروازہ غصے سے کھولا اور زور سے بند کر کے اپنے بوائے فرینڈ کو اکیلے چھوڑ کر روانہ ہو گئی۔ بیچارہ بوائے فرینڈ کو اس طرح سے بریک اپ ہونے کا اندازہ بھی نہ تھا سو خستہ حال حیران و پریشان روم سے نکلا اور ہوٹل کی ریسپشن پر روم کی بقیہ پیمنٹ ادا کی اور گھر کی راہ لی ۔ جب گھر پہنچا تو سیدھا اپنی بہن کے روم میں گیا اور غصے سے پوچھنے لگا کہ کل جو تم نے انگوٹھی لائی تھی وہ کس سے لائی ہو ؟ اور ہاں جھوٹ مت بولنا کیوں کہ جس کی انگوٹھی تھی میں آج اسے واپس کر آیا ہوں۔
بہن سسکیاں لیکر رونے لگی اور بھائی سے لپٹ کر زور زور سے روتے ہوئے بولی بھیا پلیز مجھے معاف کر دیں مجھے شیطان نے بہکاوے میں ڈال دیا تھا اور میں بالکل بھی ایسے نہیں تھی بس کل جو میں نے کہا تھا کہ اپنی فرینڈز کے گھر پارٹی ہے اس میں جا رہی ہوں وہ دراصل میں اپنے کلاس فیلو ارشد کے بہکاوے میں آ گئی تھی اور اس نے محبت کے نام پے گزشتہ شب میری عصمت تار تار کردی اور یہ انگوٹھی بھی اسی نے دی تھی ۔ آپ نے اسے انگوٹھی واپس کرکے بہت اچھا کیا ہے اور میں آپ سے وعدہ کرتی ہوں کہ آج کے بعد پوری زندگی ایسی حرکت کر کے آپ کو شرمندہ نہیں کرونگی۔ وہ روتے ہوئے سچ بتا رہی تھی اور سامنے کھڑے بھائی کی آنکھوں سے بھی برسات جاری تھی اور وہ دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ اس نے کتنا بڑا ظلم کر دیا ہے ۔ اور اب وہ مکمل حقیقت جان چکا تھا کہ انگوٹھی کیسے اس تک پہنچی۔ اور ''دنیا مکافات عمل ہے'' کی عملی تصویر اس کے سامنے آ چکی تھی۔ لیکن اب پچھتاوا بھی بے سود تھا کیونکہ بہت دیر ہو چکی تھی۔
نوٹ مسلمان اپنی تہذیب رکھتے ہیں۔ لہذا اپنی تہذیب اور تشخص کی ہی ترویج کرنی چاہئیے۔
*_میں ایسی کہانیاں سبق حاصل کرنے کیلئے بار بار پوسٹ کرتا ہوں۔ تاکہ ہم سبق حاصل کریں ۔ عبرت پکڑیں ۔برائے مہربانی شئیر کرکے دوسروں تک ضرور پہنچایا کیجئے ۔ جزاک اللہ خیرا اللہ سب کو اپنی امان میں رکھے"_.
.
.
.
اگر آپ دل کو چھو لینے والی کہانیاں پڑھنے کا شوق ہے تو ایک مرتبہ میری ID کو ضرور وزٹ کی جئے گا, اگر پسند آۓ تو Follow کر کہ see first لازمی کریں, شکریہ اس ترہا آپ کو ساری پوسٹس ملتی رہے
دعا گو بلال سرور
بیچارے ڈیٹ پر آئے ہوئے اس نوجوان کے تمام ارمان اس کے پسینے کے ساتھ بہہ رہے تھے لیکن پھر بھی اس نے ہمت کی اور کہنے لگا چھوڑو نا جانِ من تمہاری انگوٹھی سے ملتی جلتی کیا دوسری انگوٹھی مارکیٹ میں نہیں مل سکتی اور گرل فرینڈ کے ہاتھ کو تھامنے کی کوشش کی لیکن اس نے یک لخت اس ہاتھ چھڑایا اور روم کا دروازہ غصے سے کھولا اور زور سے بند کر کے اپنے بوائے فرینڈ کو اکیلے چھوڑ کر روانہ ہو گئی۔ بیچارہ بوائے فرینڈ کو اس طرح سے بریک اپ ہونے کا اندازہ بھی نہ تھا سو خستہ حال حیران و پریشان روم سے نکلا اور ہوٹل کی ریسپشن پر روم کی بقیہ پیمنٹ ادا کی اور گھر کی راہ لی ۔ جب گھر پہنچا تو سیدھا اپنی بہن کے روم میں گیا اور غصے سے پوچھنے لگا کہ کل جو تم نے انگوٹھی لائی تھی وہ کس سے لائی ہو ؟ اور ہاں جھوٹ مت بولنا کیوں کہ جس کی انگوٹھی تھی میں آج اسے واپس کر آیا ہوں۔
بہن سسکیاں لیکر رونے لگی اور بھائی سے لپٹ کر زور زور سے روتے ہوئے بولی بھیا پلیز مجھے معاف کر دیں مجھے شیطان نے بہکاوے میں ڈال دیا تھا اور میں بالکل بھی ایسے نہیں تھی بس کل جو میں نے کہا تھا کہ اپنی فرینڈز کے گھر پارٹی ہے اس میں جا رہی ہوں وہ دراصل میں اپنے کلاس فیلو ارشد کے بہکاوے میں آ گئی تھی اور اس نے محبت کے نام پے گزشتہ شب میری عصمت تار تار کردی اور یہ انگوٹھی بھی اسی نے دی تھی ۔ آپ نے اسے انگوٹھی واپس کرکے بہت اچھا کیا ہے اور میں آپ سے وعدہ کرتی ہوں کہ آج کے بعد پوری زندگی ایسی حرکت کر کے آپ کو شرمندہ نہیں کرونگی۔ وہ روتے ہوئے سچ بتا رہی تھی اور سامنے کھڑے بھائی کی آنکھوں سے بھی برسات جاری تھی اور وہ دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ اس نے کتنا بڑا ظلم کر دیا ہے ۔ اور اب وہ مکمل حقیقت جان چکا تھا کہ انگوٹھی کیسے اس تک پہنچی۔ اور ''دنیا مکافات عمل ہے'' کی عملی تصویر اس کے سامنے آ چکی تھی۔ لیکن اب پچھتاوا بھی بے سود تھا کیونکہ بہت دیر ہو چکی تھی۔
نوٹ مسلمان اپنی تہذیب رکھتے ہیں۔ لہذا اپنی تہذیب اور تشخص کی ہی ترویج کرنی چاہئیے۔
*_میں ایسی کہانیاں سبق حاصل کرنے کیلئے بار بار پوسٹ کرتا ہوں۔ تاکہ ہم سبق حاصل کریں ۔ عبرت پکڑیں ۔برائے مہربانی شئیر کرکے دوسروں تک ضرور پہنچایا کیجئے ۔ جزاک اللہ خیرا اللہ سب کو اپنی امان میں رکھے"_.
.
.
.
اگر آپ دل کو چھو لینے والی کہانیاں پڑھنے کا شوق ہے تو ایک مرتبہ میری ID کو ضرور وزٹ کی جئے گا, اگر پسند آۓ تو Follow کر کہ see first لازمی کریں, شکریہ اس ترہا آپ کو ساری پوسٹس ملتی رہے
دعا گو بلال سرور

Comments