Posts

bibi fatma

ایک خوبصورت واقعہ پڑھیے گا ضرور!!! اﯾﮏ ﺩﻥ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﯽ ﺟﺐ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﺁﭖ ﷺ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭼﻞ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﷺ ﮐﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﮔِﻦ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺳﺮﮐﺎﺭِ ﺩﻭ ﻋﺎﻟﻢ ﷺ ﻧﮯ ﺟﺐ ﻣﻨﮧ ﻣﻮﮌ ﮐﺮ ﯾﮧ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ : '' ﺍﮮ ﻋﺜﻤﺎﻥ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ) ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ؟ '' ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ : '' ﯾﺎﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠّﮧ ﷺ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﷺ ﮐﮯ ﻗﺪﻡ ﮔِﻦ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﮯ ﻏﻼﻡ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮﻭﮞ۔ '' ﺩﻋﻮﺕ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮐِﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺗﻨﮯ ﮨﯽ ﻏﻼﻡ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﯿﮯ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﺍِﺱ ﺩﻋﻮﺕ ﺳﮯ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﺁ ﮐﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﺎ ﺫِﮐﺮ ﮐِﯿﺎ۔ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : '' ﻋﻠﯽ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ) ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ ﺗﻢ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠّﮧ ﷺ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﮐﻮ ﺑُﻼﺅ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﭽﮫ ﭘﮑﺎ ﻟﻮﮞ۔ '' ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﺣ...

shame on Pakistan media

Image
عراق پر امریکی حملے کے دوران بغداد کی ایک قدیم عمارت بمباری سے ملبے کا ڈھیر بن گئی۔ عراق پر امریکی قبضے کے بعد شہر کی صفائی شروع ہوئی تو اس عمارت کا ملبہ ہٹاتے ہوئے گہرائی سے ایک قدیم عمارت کے آثار دریافت ہوئے۔ یہ کسی درس گاہ کے آثار تھے۔ وہاں سے ایک قدیم قلمی نسخہ مکمل حالت میں دستیاب ہوا جس کا نام "تحفۃ الاغانی" تھا۔ مصنف کا نام عبداللہ بن طاہر البغدادی رضوی تھا۔ کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف عالم دین اور صوفی تھے۔ یہ کتاب ان کے کشف پر مبنی پیشینگوئیوں پر مبنی ہے۔ اس میں ایک باب خاص طور پر ہند یعنی ہندوستان کے بارے میں ہے۔ اس میں حضرت لکھتے ہیں کہ ہند کے کچھ علاقوں پر مسلمانوں کی حکومت قائم ہوگی لیکن ایک طویل عرصہ تک یہ ملک افراتفری اور بے چینی کا شکار رہے گا۔ اس کی جو وجہ اس کتاب میں بیان کی گئی وہ بہت ہولناک ہے۔ حضرت لکھتے ہیں کہ اس علاقے کے مسلمان خنزیر نما خوراک کھانے کے عادی ہوں گے اور یہی سبب ہوگا کہ وہ بتدریج دین سے دور ہوتے جائیں گے۔ یہ بہت عجیب بات تھی کیونکہ پاکستان میں لوگ بظاہر ایسی کوئی چیز نہیں کھاتے۔ 2011 میں یونیورسٹی آف مشیگن کے پروفیسر سٹورٹ جونز جو...

help other

Image
بھوک کی شدت سے برا حال تھا گاڑی کسی ہوٹل پر کھڑی کرنے کا وقت نہ ملا کیونکہ گرمی انتہاء کی تھی اور گاڑی کا ائیر کنڈیشن چل رہا تھا کار سے نہ اترنے کی غرض سے سوچا کہ کھانا اب گھر جاکر ہی کھاوں گا....... میرا دبئی میں ایک چھوٹا سا بزنس تھا لیکن ان دنوں کام بالکل نہیں تھا اس لیے گاہکوں کو جاکر ملنا پڑ رہا تھا....... کام نہ ہونے کی وجہ سے پیسوں کی کمی ہوگئی تھی جیب میں صرف دو سو درہم رہ گئے تھے. اسی سوچ میں گاڑی پارکنگ میں کھڑی کر رہا تھا....... کہ ایک بنگالی لڑکا پسینے سے شرابور گندے سے کپڑے پہنے ہوئے میری کار کی طرف بڑھا میں نے شیشہ نیچے کیا تو کہنے لگا........ " السلام علیکم ! بھائی کیا حال ھے میں مسلمان ہوں اور شکل سے آپ بھی مجھے مسلمان لگتے ہیں مجھے آپ سے ایک گزارش کرنی ہے. " میں نے پوچھا کیا بات ھے. وہ ایک دم رونے لگا اور بولامیں فقیر نہیں ہوں لیکن دو دن سے بھوکھا ہوں. میری والدہ بیمار ہیں میرے پاس کوئی نوکری بھی نہیں.....کیا آپ مجھے 50 درہم دے سکتے ہیں مجھے بھوک لگی ہے...... اور میں اپنی ماں کو کچھ پیسے جمع کرکے بنگلہ دیش بھیجنا چاہتا ہوں تاکہ میری ماں دوا لے سکے...... 5...

problems

کنواروں کا اہم مسئلہ۔۔۔ اور اس کاحل ---------------------------------------------- ❞ پہلےاپنے پیروں پرکھڑےہو جاؤ پھر شادی کی سوچنا ❝ ================================= 💔 یہ ایک جملہ ہے جو ہمارےعہد کے بہت سارے کنواروں کے دل پر بجلی بن کر گرتا ہے اور ان کی سلگتی تمنّاؤں اور آرزوؤں کو خاکستر کر دیتاہے۔ ہمارے یہاں لڑکے کے لیے پیروں پر کھڑا ہونے کا معیار اتنی بلندی پر رکھا گیا ہے کہ وہاں تک پہنچتے پہنچتے لڑکے کی عمر اس مرحلہ میں پہنچ جاتی ہے جہاں گھٹنوں کا درد شروع ہو جاتا ہے۔ لیکن گھنٹے میں درد شروع ہو جانے کی اور بھی کئی ساری وجوہات ہوتی ہیں۔ 💘 عجیب معاملہ یہ ہے کہ تیس سال سے پہلے تو یہ سمجھا ہی نہیں جاتا کہ بچّہ اب بچّہ نہیں رہا۔ جوان ہوچکا ہے۔ آرزوئیں اب اس کے دل میں بھی کچوکے لگاتی ہیں، خواب اب اس کی راتوں کو سونے نہیں دیتے۔ بے چارہ نوجوان شرم اور بے شرمی کے بیچ جھولتا رہتا ہے اس فکر میں کہ آخر بے شرمی کی کون سی حد تک جائے کہ گھر والے اس کا مسئلہ سمجھ پائیں۔ کبھی حیا اس کو ہاتھ پکڑ کر روک لیتی ہے تو کبھی کنوارگی کا درد اس کو مجبور کرتا ہے کہ” اتر جاؤ بے شرمی پر اور رکھ دو دل کا ...

love of mother

Image
پھولوں کی دوکان کے آگے ایک کار رُکی اور ایک شخص اُتر کر دکان میں داخل ھوا اور گُل فروش سے ایک بہت اچھا گلدستہ خرید کر کہا کہ میں اپنی ماں کا ایڈریس آپ کو دیتا ھوں آپ برائے مہربانی اِس گلدستے کو اُن کے لئے بھیج دیں۔ پیسے ادا کئے اور باھر نکل گیا دکان سے۔ دکان کے تھڑے پر ایک کم عمر لڑکی بیٹھی رو رھی تھی۔ اُس نے لڑکی سے پوچھا: "بیٹی کیا بات ھے، کیوں رو رھی ھو؟" لڑکی نے جواب دیا: "میں اپنی ماں کے لئے ایک پھول خریدنا چاہ رھی تھی لیکن میرے پیسے پورے نہیں تھے۔" اُس شخص نے مسکرا کر کہا: "بیٹی میرے ساتھ آؤ دکان میں، میں ایک خوبصورت گلدستہ خریدتا ھوں تمہارے لئے تاکہ تم اپنی ماں کو تحفہ دے سکو۔" جب لڑکی گلدستہ ھاتھ میں لے کر دوکان سے باھر نکلی تو اُس کے لبوں پر مسرّت اور تشکّر کے جذبات سے بھری مسکراھٹ کھیل رھی تھی۔ اُس شخص نے لڑکی سے پوچھا؛ "بیٹی اگر چاھو تو میں تمہیں گھر پہنچا دوں؟" لڑکی نے جواب دیا: نہیں محترم! جس قبرستان میں میری ماں کی قبر ھے وہ یہاں قریب ھی ھے۔" اُس شخص کو جیسے سکتہ ھو گیا۔ زبان نے ساتھ دینے سے انکار کر دیا اور اُس کا گلا رُندھ...

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے قبول اسلام کا عجیب و غریب واقعہ اسلام سے قبل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا شمار علاقہ کے بڑے تاجروں میں ہوتا تھا ۔ ایک مرتبہ تجارت کے سلسلے میں آپ رضی اللہ تعالی عنہ ؓ ملک شام تشریف لے گئے۔ یہاں قیام کے دوران ایک رات آپؓ رضی اللہ تعالی عنہ نے خواب دیکھا کہ چاند اور سورج آسمان سے نیچے اتر آئے ہیں اور آپؓ کی گود میں داخل ہوگئے ہیں ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک ہاتھ سے چاند اور ایک ہاتھ سے سورج کو پکڑ کر اپنے سینے سے لگا لیا اور انھیں اپنی چادر میں چھپا لیا۔ صبح آپؓ رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے تو اس عجیب و غریب خواب کی تعبیر پوچھنے کے لئے قریب ہی ایک راہب کے پاس تشریف لے گئے۔ اس راہب نے سارا خواب سن کر آپ ؓ سے پوچھا ، آپؓ کا نام کیا ہے، آپؓ کہاں کے رہنے والے ہیں ؟ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا میرا نام ابوبکر ہے اورمیں مکہ معظمہ کا رہنے والا ہوں۔ میرا تعلق قبیلہ قریش سے ہے . راہب نے سوال کیا کہ آپ ؓ کا ذریعہ معاش کیا ہے ؟۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا میں تجارت کرتا ہوں۔ عیسائی راہب نے ح...

mari son lo

Image
چھوٹی سی الجھن ہے ! ایک محفل میں ایک حضرت نے میری ایک بات پر سوال کیا کہ "آپ کا مسلک کیا ہے؟" میں نے جواب دیا "کچھ نہیں"۔ کہنے لگے "پھر بھی"۔ میں نے کہا "الحمدللہ میں مسلم ہوں اور یہ نام اللہ کا دیا ہوا ہے۔ طنزیہ فرمانے لگے کہ "کہیں بھی جانا ہو، بندے کا کوئی ایک راستہ ہوتا ہے۔" ادب سے عرض کی، "حضور میں پکی سڑک پر چلنا پسند کرتا ہوں، پگڈنڈیاں چھوڑ دیتا ہوں۔" اور یہ صرف ایک دفعہ کی بات نہیں، اکثر لوگ اچھے بھلے سمجھدار اور پڑھے لکھے بھی یہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیتے ہیں کہ دوسرا کسی مسلک کی پیروی نہیں کرتا۔ تو میری ایک چھوٹی سی الجھن ہے، آپ مدد کر دیجئے۔ خطبہ حجۃالوداع اورتاریخی موقعے کا ذکر تو آپ سب نے یقینا” پڑھا ہوگا۔ کوئی لاکھ سوا لاکھ کا مجمع تھا۔ کوئی مجھے بتائے گا کہ اس وقت موجود صحابہ اور نو مسلم شیعہ تھے یا سنی؟ میں جاننا چاہتا ہوں کہ 1703 سے پہلے جب عبدالوہاب نجدی، 1856 سے پہلے احمد رضا خان بریلوی، 1866 سے پہلے دارلعلوم دیوبند، لگ بھگ 100 سال پہلے جب اہل حدیث اور سلفی تحریک جب وجود نہیں رکھتے تھے تو عام سادہ...