السلام علیکم : ایک انتہائی فضول قسم کی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ لڑکی جب پوسٹ کرتی ہے کہ میں شادی کرونگی تو صرف فوجی سے تو گروپ میں پتہ نہیں کہاں سے آرمی کا پورا ڈویژن آ جاتا ہے سارے ہی فوجی بن جاتے ہیں ایک موصوفہ نے پوسٹ کی آئی لو شاہ رخ خان بس پھر کیا تھا۔۔۔ چوسنی کے منہ ورگی ڈی پی والوں نے بھی کمنٹ کرنا شروع کر دیا پتہ نہیں لوگ مجھے کیوں کہتے ہیں تمہاری شکل پتہ نہیں کیوں شاہ رخ خان سے ملتی ہے۔ ۔ کوئی اسکو بتائے اوۓ داتری دے منہ والیا ، کدے منہ وی دیکھیا ای شیشے وچ، مراثیا در فٹے منہ 😷😂😂😂 ۔ میں سوچ رہا تھا کہ کل کو کوئی لڑکی پوسٹ کر دے مجھے گدھے بہت پسند ہیں، کمیٹی کی ٹوٹی ورگی شکل والے ٹھرکیوں کے کمنٹس کچھ ایسے ہونگے۔۔😏😂😂😂😈 کمنٹ :پتہ نہیں گھر میں امی مجھے کیوں گدھا بولتی ہیں🤔😷😂 دوسرا ٹھرکی: پتہ نہیں کیوں میری شکل گدھے سے اتنی ملتی ہے ، جہاں بھی جاوں لوگ مجھے کھوتا کہتے ہیں😂😷😂😂😂😂😂😂 ایک موصوف تو یہ بھی کہتے پاۓ جائیں گے، میں بہت محنتی ہوں اس لیے مجھے لوگ گدھا کہتے ہی 😷😂😂😂😂 اور کچھ بڑے ہی اعلی درجے کے ٹھرکی حضرات کی کمنٹس ایسی ہونگی ...
جب لیٹرین نہیں ہوتی تھی ۔۔؟؟ نوٹ : نابالغ اور کچے ذہن ہرگز نہ پڑھیں۔۔!! جب دیہات میں لیٹرین کا رواج نہیں تھا رفع حاجت کے لیے کھیتوں کا رخ کرنا پڑتا تھا ۔عورتیں رات کو یا صبح منہ اندھیرے یہ کام کرتیں۔ مرد و خواتین کے علاقے بھی مخصوص تھے۔ ہمیں یعنی بچوں کو بھی باہر جانا پڑھتا تھا۔ ان دنوں بھوت پریت اور بردہ فروشی 'عام' تھی اسلئے ہمیں دن دہاڑے اور ٹیم کی شکل میں یہ فرض سرانجام دینا پڑتا۔۔ فراغت کے بعد "گھسیٹی" ماری جاتی تھی۔ اس عمل کے دوران کانٹا کنکر چبھ جانا عام بات تھی۔ بارش میں بھی بھیگتے، کانپتے، کیچڑ میں لتھڑے وہیں جانا پڑتا اور کپڑے کی ٹاکیاں بطور ٹشو پیپر استعمال ہوتیں۔ رات کو ایمرجنسی پڑ جاتی تو اکیلے ہی ڈرتے ڈرتے کھیت کو دوڑ لگ جاتی۔ جاتے ہوئے دعا مانگی جاتی کہ "یا اللہ تو ہی ہے جو خیریت(شلوار کی) سے پہنچا سکتا ہے" واپسی پر بھی یہی دعا مانگی جاتی "یا اللہ تو ہی ہے جو خیریت(جنات سے) سے پہنچا سکتا ہے" ایک لڑکا اس حالت میں پکڑا گیا کہ کھیت میں بیٹھا ' کام' بھی کرتا جا رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ بڑا سا تربوز بھی کھا رہا ہے۔۔ گا...
Comments