The sultanate's Minister of Manpower issues to ban to encourage companies to hire more Omani nationals Sultanate is looking to make companies put in more effort to look for Omani professionals. Mon Oman has issued a six-month ban on the issuance of work visas for expatriates in ten sectors, including information systems, engineering, aviation and certain technical professions. Sheikh Abdullah bin Nasser Al Bakri, the sultanate’s Minister of Manpower, issued the new regulation, which will begin with immediate effect. According to Fabio Scacciavillani, chief economist at Oman Investment Fund, who was quoted by the Times of Oman, the move is part of a strategy to “Omanise” the labour market and is designed to encourage the private sector to hire for these skilled roles from within the country. “It is a way to make companies put in more effort to look for Omani professionals as sometimes they don’t do enough to look for Omanis. This may be due to a bias they have for hiring expat ...
جب لیٹرین نہیں ہوتی تھی ۔۔؟؟ نوٹ : نابالغ اور کچے ذہن ہرگز نہ پڑھیں۔۔!! جب دیہات میں لیٹرین کا رواج نہیں تھا رفع حاجت کے لیے کھیتوں کا رخ کرنا پڑتا تھا ۔عورتیں رات کو یا صبح منہ اندھیرے یہ کام کرتیں۔ مرد و خواتین کے علاقے بھی مخصوص تھے۔ ہمیں یعنی بچوں کو بھی باہر جانا پڑھتا تھا۔ ان دنوں بھوت پریت اور بردہ فروشی 'عام' تھی اسلئے ہمیں دن دہاڑے اور ٹیم کی شکل میں یہ فرض سرانجام دینا پڑتا۔۔ فراغت کے بعد "گھسیٹی" ماری جاتی تھی۔ اس عمل کے دوران کانٹا کنکر چبھ جانا عام بات تھی۔ بارش میں بھی بھیگتے، کانپتے، کیچڑ میں لتھڑے وہیں جانا پڑتا اور کپڑے کی ٹاکیاں بطور ٹشو پیپر استعمال ہوتیں۔ رات کو ایمرجنسی پڑ جاتی تو اکیلے ہی ڈرتے ڈرتے کھیت کو دوڑ لگ جاتی۔ جاتے ہوئے دعا مانگی جاتی کہ "یا اللہ تو ہی ہے جو خیریت(شلوار کی) سے پہنچا سکتا ہے" واپسی پر بھی یہی دعا مانگی جاتی "یا اللہ تو ہی ہے جو خیریت(جنات سے) سے پہنچا سکتا ہے" ایک لڑکا اس حالت میں پکڑا گیا کہ کھیت میں بیٹھا ' کام' بھی کرتا جا رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ بڑا سا تربوز بھی کھا رہا ہے۔۔ گا...
کنواروں کا اہم مسئلہ۔۔۔ اور اس کاحل ---------------------------------------------- ❞ پہلےاپنے پیروں پرکھڑےہو جاؤ پھر شادی کی سوچنا ❝ ================================= 💔 یہ ایک جملہ ہے جو ہمارےعہد کے بہت سارے کنواروں کے دل پر بجلی بن کر گرتا ہے اور ان کی سلگتی تمنّاؤں اور آرزوؤں کو خاکستر کر دیتاہے۔ ہمارے یہاں لڑکے کے لیے پیروں پر کھڑا ہونے کا معیار اتنی بلندی پر رکھا گیا ہے کہ وہاں تک پہنچتے پہنچتے لڑکے کی عمر اس مرحلہ میں پہنچ جاتی ہے جہاں گھٹنوں کا درد شروع ہو جاتا ہے۔ لیکن گھنٹے میں درد شروع ہو جانے کی اور بھی کئی ساری وجوہات ہوتی ہیں۔ 💘 عجیب معاملہ یہ ہے کہ تیس سال سے پہلے تو یہ سمجھا ہی نہیں جاتا کہ بچّہ اب بچّہ نہیں رہا۔ جوان ہوچکا ہے۔ آرزوئیں اب اس کے دل میں بھی کچوکے لگاتی ہیں، خواب اب اس کی راتوں کو سونے نہیں دیتے۔ بے چارہ نوجوان شرم اور بے شرمی کے بیچ جھولتا رہتا ہے اس فکر میں کہ آخر بے شرمی کی کون سی حد تک جائے کہ گھر والے اس کا مسئلہ سمجھ پائیں۔ کبھی حیا اس کو ہاتھ پکڑ کر روک لیتی ہے تو کبھی کنوارگی کا درد اس کو مجبور کرتا ہے کہ” اتر جاؤ بے شرمی پر اور رکھ دو دل کا ...
Comments